اطلاعات کے مطابق امریکہ بدنام زمانہ جاسوس تنظیم C I Aنے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کی سلامتی کو اب یمن میں موجود القاعدہ سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سی آئی اے کو یقین ہے کہ یمن میں موجود القاعدہ کی شاخ اسامہ بن لادن کی بانی تنظیم القاعدہ سے زیادہ طاقتور بن چکی ہے۔اخبار کے مطابق C I A یمن میں امریکی فوجی آپریشن کے بارے سوچ رہی ہے اور اس میں ڈرونز طیارے بھی استعمال میں کیے جائیں گے۔مبینہ طور پر امریکی فورسز کے خصوصی دستے یمنی حکومت کے ساتھ مل کر القاعدہ کے خاتمے کے لیے کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں۔امر واقع یہ ہے کہ یمن جس شخص کو القاعدہ کا لیڈر بتایا جاتا ہے وہ امریکی نژاد انور الاول لاکی ہے۔اس مسلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح افغانستان یا پاکستان میں القاعدہ پر بظاہر دباؤ نظر آتا ہے اس طرح کا کوئی دباؤ یمن میں موجود القاعدہ پر نہیں ہے ۔مبصرین کی نگاہ میں یہ ایک ایسا نکتہ ہی جو اس خطے میں امریکہ آئندہ عزائم کو نمایاں کر دینے کے لئے کافی ہے۔یمن ایک طویل عرصے سے خانہ جنگی کے ماحول سے دوچار ہے اور حوثی قبائل کے مقابلے میں یمن کی حکومت کو امریکہ اور سعودی عرب کی کھلی حمایت کے باوجود اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ بہرحال امریکہ کو عراق اور افغانستان میں اپنی شکست اور ان دونوں ملکوں سے انخلا کی صورت میں اپنے میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کی ضرورت ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یمن میں القاعدہ کے خطرے کو اسی لئے برھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے ۔البتہ مبصرین کے پیش نظر حوثی قبائل اور حکومت یمن کے درمیان اختلافات مسلہ بھی اور ممکنہ طور پر امریکہ القاعدہ کا بہانہ بناکراپنے دیگر مقاصد کے درپے ہو۔
۔۔۔۔۔
/110